منظر ۔آیت نے ایک گہری سانس لی اور اپنی نظریں ڈھلتے ہوئے سورج سے ہٹا کر شاہمیر کی آنکھوں میں ڈال دیں۔ اس کے لہجے میں ایک عجیب سی سنجیدگی اور تھوڑا سا درد تھا۔"شاہمیر۔۔۔ آپ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میری زندگی کی کتاب میں کوئی ایسا کردار آیا جس نے میری قلم کو رونے پر مجبور کیا؟" آیت تھوڑا رکی، پھر دھیرے سے بولی، "لیکن سچ تو یہ ہے کہ۔۔۔ 'اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا'۔"شاہمیر نے حیرت سے اسے دیکھا، اس کی شرارت اب ایک گہری توجہ میں بدل گئی تھی۔آیت